lucknow Seminar

لکھنؤمیں غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سمینار کا افتتاح

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ، شعبۂ اردو لکھنؤ یونیورسٹی اور اردو رائٹرس فورم کے اشتراک سے دو روزہ قومی سمینار بعنوان ’عہد غالب کا لکھنؤ‘ کا افتتاحی اجلاس لکھنؤ یونیورسٹی کے مالویہ ہال میں پر وقار انداز میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے لکھنؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر سریندر پرتاپ سنگھ نے کہا کہ میں غالب انسی ٹیوٹ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی کو اس تاریخی سمینار کے لئے منتخب کیا ۔مجھے اردو لکھنا پڑھنا نہیں آتا لیکن میں نے ہندی کے وسیلے سے غالب کی سوانح حیات کا مطالعہ کیا اور مطالعہ کرتے ہوئے مجھے حیرت ہوئی کہ میں کیسے عظیم شخص کی زندگی کا مطالعہ کر رہا ہوں ۔ان کے یہاں زندگی کے تعلق سے ایک نیا زاویہ سامنے آتا ہے ۔جب میں نے غالب کے اشعار کا مطالعہ کیا تو بہت سے الفاظ کے معنی سمجھ میں نہیں آئے ، میں نے لوگوں سے پوچھا اور جب ان کے معنی معلوم ہوئے تو میں نے دیکھا کہ ان کے یہاں زندگی کا گہرا عرفان اوراظہار کی بے باکی ہے جو انہیں عام انسانوں سے مختلف بناتی ہے ۔ زندگی کے مختلف موقعوں پر ان کے اشعار یاد آتے ہیں اور اکثر بہت نازک موقعوں پر مجھے سہارا بھی دیتے ہیں ۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے کہا کہ یہ بڑا تاریخی موقع ہے اور بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ ہم لکھنؤ یونیورسٹی میں یہ تاریخی سمینار منعقدکر رہے ہیں۔غالب کے بارے میں ایک بات بہت اہم ہے کہ انہوں نے ادب کلچر اور کئی جہتوں سے ایسے سلسلے شروع کیے جو بالکل نئے تھے ۔لکھنؤ ایک تاریخی شہر ہے ۔ہندوستان کی تاریخ میں کئی ایسے اہم موڑ ہیں جہاں لکھنؤ کے نقوش روشن نظر آتے ہیں ۔ہم نے کئی شہروں میں اس طرح کے سمینار کئے ہیں لیکن ہماری دیرینہ خواہش تھی کہ لکھنؤ میں اس طرح کا سمینار منعقد کریں ہماری اس دیرینہ خواہش کیا آج تکمیل ہو رہی ہے ۔کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے اردوکے معروف دانشور پروفیسر شارب ردولوی نے کہا کہ غالب کی یہ خصوصیت ہے کہ جس طرح ان کے معتقدین ہیں اسی طرح ان کے مخالفین کی بھی خاصی تعداد نظر آتی ہے ۔قاطع برہان کے سلسلے میں ہتکِ حرمت کا مقدمہ تو عدالت تک جا پہنچا ۔عہدِ غالب کا لکھنؤ اپنی ادبی اور ثقافتی ترقی کے عروج پر تھا یہ وہ دور تھا کہ علما و ادبا کھنچے لکھنؤ چلے آتے تھے۔ غالب نے دیگر شعرا کی طرح دہلی تو نہ چھوڑی لیکن وہ ہمیشہ اودھ کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھتے رہے۔ ان کی سات کتابیں منشی نول کشور پریس سے ان کی زندگی میں شائع ہوئیں۔پروفیسر فضل امام نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لکھنؤ سے غالب کا رشتہ بہت پرانا ہے۔اس شہر میں ان کے مداح و نکتہ چین دونوں نظر آتے ہیں۔نظم طباطبائی، اثر لکھنوی اور یگانہ چنگیزی ان میں بطورخاص قابل ذکر ہیں۔ہماری بدنصیبی ہے کہ غالب کے تعلق سے ایسے افراد کو غالب شناس تسلیم کر لیا گیا جو غالب کے اشعار کی صحیح طور سے قرأت بھی نہیں کر سکتے۔ غالب کو کسی عہد اور زمانے میں قید نہیں کیا جا سکتا جہاں ناقدین کی قوت متخیلہ دم توڑ دیتی ہے وہاں سے غالبیات کا آغاز ہوتا ہے۔ اردو رائٹرس فورم کے جنرل سکریٹری جناب وقار مہدی رضوی نے اظہارتشکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم غالب انٹی ٹیوٹ اور لکھنؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ایس پی سنگھ کے بے حد ممنون ہیں جن کے تعاون کے بغیر ایسے کامیاب سمینار کا انعقادممکن نہیں تھا غالب اردو ادب اور ہندستانی تہذیب کے بہترین نمائندے ہیں لیکن اکثر اردو سے ناواقفیت کے باعث ہم ان کی تخلیقات کو سمجھ نہیں پاتے لہٰذا ہمیں ڈرامے وغیرہ جیسے ذرائع کو بروئے کار لانا چاہیے۔میں اردو رائٹرس فورم لکھنؤ یونیورسٹی اور غالب انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے تمام شرکائے محفل کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اپنی مصروفیات کے باوجود اس جلسے میں شرکت کی اوراس اجلاس کے وقار میں اضافہ کیا۔ پروگرام کی ابتدا میں شعبۂ اردو لکھنؤ یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر عباس رضا نیر نے سمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غالب کا دیوان بہت مختصر ہے لیکن زندگی کا کوئی ایسا پہلو نہیں ہوگا جس کے تعلق سے ہمیں فکر کا کوئی نیا گوشہ نہمل جاتا ہو۔ ڈاکٹر رضا حیدر نے اس اجلاس کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔ دوران گفتگو انھوں نے فرمایا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی کوشش رہتی ہے کہ وہ غالب اور عہد غالب کے ہر گوشے پر سمینار منعقد کرے اور کتابیں شائع کرے جس سے گفتگو کا نیا سلسلہ قائم ہو ۔ہمیں بے حد خوشی ہے کہ ہم شعبۂ اودو لکھنؤ یونیورسٹی اوراردو رائٹرس فورم کے اشتراک سے ایسے یادگار سمینار کا انعقاد کر سکے۔اس موقع پراردو ادب اوردیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نامورشخصیات کے علاوہ ریسرچ اسکالرس اور طلبا طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کے اختتام پرمشہور و معروف گلوکارہ مالویکاہری اوم نے اپنی دلکش آوازمیں غالب کی غزلیں پیش کیں،جس کو سامعین نے بے حد پسند کیا۔

تصویر میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر شارب ردولوی، ڈاکٹر سید رضا حیدر، پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی،ُ روفیسر سریندر پرتاپ سنگھ، پروفیسر فضل امام، جناب وقار مہدی رضوی

غالب انسٹی ٹیوٹ میں بیگم عابدہ احمد میموریل لکچر کا انعقاد

کبیر اور غالب کے تصورِ توحید میں یکسانیت ہے:پروفیسر ہربنس مکھیا
غالب انسٹی ٹیوٹ میں بیگم عابدہ احمد میموریل لکچر کا انعقاد
غالب انسٹی ٹیوٹ کی ثقافتی تنظیم ہم سب ڈرامہ گروپ کے زیر اہتمام بیگم عابدہ احمد میموریل لکچر کے موقع پرممتاز مورخ پروفیسر ہربنس مکھیا نے ’’توحید کے بدلتے معنی کبیر سے غالب تک‘‘ کے موضوع پر نہایت عالمانہ خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ توحید کی تاریخ اسلام سے پرانی ہے ۔ یہودیت، عیسائیت اور ہندو مذہب میں بھی توحید کا تصور ہے۔ اسلام میں توحید کے علاوہ کوئی دوسری دھارا نہیں ہے لیکن ہندو مذہب میں بہت سے دیوی دیوتا کا تصور بھی ہے بلکہ وہاں دہریت کا بھی ایک دھارا ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ ہم سب ایک دوسرے کے بارے میں کچھ تصورات قائم کر لیتے ہیں کہ جو شخص خاص طرح کے اعمال بجا لائے اور خاص طرح کے افعال سے باز رہے وہ ہندو یا مسلمان عیسائی یا سکھ ہے لیکن کبیر کے یہاں ایسا نہیں ہے انھوں نے اسلام اور ہندو ازم کے تضاد کو مٹا کر یونیورسل گاڈ کا تصور دیا۔ غالب کے یہاں بھی اسی خدا کی بات ہوتی ہے جو دیر و حرم میں قید نہیں ۔پروفیسر مکھیا نے غالب کا مشہور شعر’ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم۔ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں‘ کی روشنی میں کہا کہ یہ غالب کا سب سے خوب صورت شعر ہے اگر دیوان غالب میں سے صرف ایک شعر منتخب کرنے کو کہا جائے تو میں اسی شعر کا انتخاب کروں گا۔ اس شعر میں ہندستانیت بہت زیادہ ہے اور توحید کی وہی تعریف ملتی ہے جو کبیر کے یہاں نظر آتی ہے، وہ چھوٹی ملتوں میں بٹ کر توحید کی تلاش نہیں کرتے بلکہ ایسی توحید کا تصور پیش کرتے ہیں جس میں ضم ہو کر ملتیں اجزائے ایماں بن جاتی ہیں۔
اپنی صدارتی تقریر میں غالب انسٹی ٹیوٹ کے چیرمین جسٹس بدر درریز احمد نے فرمایا کہ پروفیسر ہربنس مکھیا کا شمار ہندستان کے ممتاز مورخوں میں ہوتا ہے، انھوں نے ہندی اردو ادب کا بھی مطالعہ کیا ہے یہ عالمانہ خطبہ اسی کی ایک مثال ہے۔ ہندو مذہب کئی طرح کے عقائد کا مجموعہ ہے جس میں کچھ نظریے اسلامی عقائد سے قریب ہیں اور کچھ اس کے خلاف ۔ کثرت میں وحدت ہی ہندستان کی شناخت ہے مگرہم ساری دنیا یا ملک کو ایک رنگ میں رنگنے کی کوشش کرتے ہیں۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہربنس مکھیا نے کبیر سے لے کرغالب تک تصور توحید کو موضوع بنایاچونکہ وہ ایک مورخ ہیں اور ان کے مطالعے کا دائرہ بہت وسیع ہے لہٰذا ان کا زاویہ ہی مختلف ہو گا۔ ’ہم سب‘ ڈرامہ گروپ کی چیرمین ڈاکٹر رخشندہ جلیل نے فرمایا کہ پروفیسر ہربنس مکھیا کو بطور مورخ سب جانتے ہیں لیکن جب سے وہ غالب انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہیں ہم ان کے مفید مشوروں سے مستفید ہوتے رہیں۔ ان کے خطبے میں دو باتوں نے مجھے بطور خاص متاثر کیا اوّل انھوں نے مذہب اور مذہبیت کا خوبصورت تصور پیش کیا دوسرے انھوں نے جن مثبت خیالات و افکارکاذکر کیاہمیں ان مثبت خیالات و افکار پرمنفی اثرات کو حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹرسید رضاحیدر نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے انسٹی ٹیوت کی جانب سے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ وہ اہم اور اچھوتے موضوعات کا انتخاب کرے پروفیسر ہربنس مکھیا ہمارے عہد کے ممتاز مورخ ہیں ان کی ادبی بصیرت بھی بہت اعلیٰ ہے ۔ ہماری کوشش رہتی ہے کہ ہم ایسے ہی لوگوں کا انتخاب کریں جن کی گفتگوسے ہماری اجتماعی بصیرت میں اضافہ ہواور کچھ نئے زاویے پیدا ہوں۔ اس موقع پر پروفیسر پروشوتم اگروال، پروفیسر اخترالواسع، پروفیسر اقتدار حسین خان،ڈاکٹر خالد علوی، ڈاکٹر مظفر حسین سید، اے رحمان، ڈاکٹر ابوبکر عباد، ڈاکٹر سرورالہدیٰ، ڈاکٹر محمود فیاض، ڈاکٹر ظہیر رحمتی، ڈاکٹر شعیب رضا وارثی، ڈاکٹر سفینہ، ڈاکٹر محضر رضا، ڈاکٹر ادریس احمد، ڈاکٹر سہیل انور، ڈاکٹر زمرّد مغل، محمد عمر، یاسمین فاطمہ کے علاوہ سماجی اور سیاسی حلقوں کی کئی نامور ہستیاں اور ریسرچ اسکالرس بڑی تعداد میں موجود تھے۔