
Click for Seminar Pictures





Click for Seminar Pictures





کبیر اور غالب کے تصورِ توحید میں یکسانیت ہے:پروفیسر ہربنس مکھیا
غالب انسٹی ٹیوٹ میں بیگم عابدہ احمد میموریل لکچر کا انعقاد
غالب انسٹی ٹیوٹ کی ثقافتی تنظیم ہم سب ڈرامہ گروپ کے زیر اہتمام بیگم عابدہ احمد میموریل لکچر کے موقع پرممتاز مورخ پروفیسر ہربنس
مکھیا نے ’’توحید کے بدلتے معنی کبیر سے غالب تک‘‘ کے موضوع پر نہایت عالمانہ خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ توحید کی تاریخ اسلام سے پرانی ہے ۔ یہودیت، عیسائیت اور ہندو مذہب میں بھی توحید کا تصور ہے۔ اسلام میں توحید کے علاوہ کوئی دوسری دھارا نہیں ہے لیکن ہندو مذہب میں بہت سے دیوی دیوتا کا تصور بھی ہے بلکہ وہاں دہریت کا بھی ایک دھارا ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ ہم سب ایک دوسرے کے بارے میں کچھ تصورات قائم کر لیتے ہیں کہ جو شخص خاص طرح کے اعمال بجا لائے اور خاص طرح کے افعال سے باز رہے وہ ہندو یا مسلمان عیسائی یا سکھ ہے لیکن کبیر کے یہاں ایسا نہیں ہے انھوں نے اسلام اور ہندو ازم کے تضاد کو مٹا کر یونیورسل گاڈ کا تصور دیا۔ غالب کے یہاں بھی اسی خدا کی بات ہوتی ہے جو دیر و حرم میں قید نہیں ۔پروفیسر مکھیا نے غالب کا مشہور شعر’ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم۔ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں‘ کی روشنی میں کہا کہ یہ غالب کا سب سے خوب صورت شعر ہے اگر دیوان غالب میں سے صرف ایک شعر منتخب کرنے کو کہا جائے تو میں اسی شعر کا انتخاب کروں گا۔ اس شعر میں ہندستانیت بہت زیادہ ہے اور توحید کی وہی تعریف ملتی ہے جو کبیر کے یہاں نظر آتی ہے، وہ چھوٹی ملتوں میں بٹ کر توحید کی تلاش نہیں کرتے بلکہ ایسی توحید کا تصور پیش کرتے ہیں جس میں ضم ہو کر ملتیں اجزائے ایماں بن جاتی ہیں۔
اپنی صدارتی تقریر میں غالب انسٹی ٹیوٹ کے چیرمین جسٹس بدر درریز احمد نے فرمایا کہ پروفیسر ہربنس مکھیا کا شمار ہندستان کے ممتاز مورخوں میں ہوتا ہے، انھوں نے ہندی اردو ادب کا بھی مطالعہ کیا ہے یہ عالمانہ خطبہ اسی کی ایک مثال ہے۔ ہندو مذہب کئی طرح کے عقائد کا مجموعہ ہے جس میں کچھ نظریے اسلامی عقائد سے قریب ہیں اور کچھ اس کے خلاف ۔ کثرت میں وحدت ہی ہندستان کی شناخت ہے مگرہم ساری دنیا یا ملک کو ایک رنگ میں رنگنے کی کوشش کرتے ہیں۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہربنس مکھیا نے کبیر سے لے کرغالب تک تصور توحید کو موضوع بنایاچونکہ وہ ایک مورخ ہیں اور ان کے مطالعے کا دائرہ بہت وسیع ہے لہٰذا ان کا زاویہ ہی مختلف ہو گا۔ ’ہم سب‘ ڈرامہ گروپ کی چیرمین ڈاکٹر رخشندہ جلیل نے فرمایا کہ پروفیسر ہربنس مکھیا کو بطور مورخ سب جانتے ہیں لیکن جب سے وہ غالب انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہیں ہم ان کے مفید مشوروں سے مستفید ہوتے رہیں۔ ان کے خطبے میں دو باتوں نے مجھے بطور خاص متاثر کیا اوّل انھوں نے مذہب اور مذہبیت کا خوبصورت تصور پیش کیا دوسرے انھوں نے جن مثبت خیالات و افکارکاذکر کیاہمیں ان مثبت خیالات و افکار پرمنفی اثرات کو حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹرسید رضاحیدر نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے انسٹی ٹیوت کی جانب سے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ وہ اہم اور اچھوتے موضوعات کا انتخاب کرے پروفیسر ہربنس مکھیا ہمارے عہد کے ممتاز مورخ ہیں ان کی ادبی بصیرت بھی بہت اعلیٰ ہے ۔ ہماری کوشش رہتی ہے کہ ہم ایسے ہی لوگوں کا انتخاب کریں جن کی گفتگوسے ہماری اجتماعی بصیرت میں اضافہ ہواور کچھ نئے زاویے پیدا ہوں۔ اس موقع پر پروفیسر پروشوتم اگروال، پروفیسر اخترالواسع، پروفیسر اقتدار حسین خان،ڈاکٹر خالد علوی، ڈاکٹر مظفر حسین سید، اے رحمان، ڈاکٹر ابوبکر عباد، ڈاکٹر سرورالہدیٰ، ڈاکٹر محمود فیاض، ڈاکٹر ظہیر رحمتی، ڈاکٹر شعیب رضا وارثی، ڈاکٹر سفینہ، ڈاکٹر محضر رضا، ڈاکٹر ادریس احمد، ڈاکٹر سہیل انور، ڈاکٹر زمرّد مغل، محمد عمر، یاسمین فاطمہ کے علاوہ سماجی اور سیاسی حلقوں کی کئی نامور ہستیاں اور ریسرچ اسکالرس بڑی تعداد میں موجود تھے۔


فاروق ارگلی نے قلم کی بنیاد پر خود کو منوایاہے:پروفیسراخترالواسع
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام’ شام شہریاراں ‘کے موقع پر فاروق ارگلی کی کتاب’ جواہرعظیم آباد‘پرمذاکرے کاانعقاد
نئی دہلی:غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شام شہریاراں کے موقع پرمعروف صحافی ومصنف فاروق ارگلی کی کتاب’ جواہرعظیم آباد‘پرمذاکرے کاانعقادکیاگیا۔اس موقع پراپنی صدارتی گفتگومیں مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی، جودھپور کے وائس چانسلر اور معروف اسکالرپروفیسراخترالواسع نے فاروقی ارگلی کی اس کتاب پر انہیں مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس کتاب میں فاروق ارگلی نے ذرّہ برابر بھی تعصب سے کام نہیں لیا ہے۔فاروق ارگلی کی خاصیت یہ ہے کہ انہوں نے قلم کی بنیاد پر اپنے آپ کو منوایاہے۔فاروق ارگلی کی فکر بڑی زرخیز ہے۔ انہوں نے ادب و ثقافت ،تاریخ و تہذیب اور مختلف موضوعات پرقلم اٹھایا ہے۔اور اپنے تدبّر سے صاحبانِ فہم کوہمیشہ علمی تحفہ پیش کیا ہے۔ جواہرعظیم آبادمیں بہارکی اہم شخصیات کی خدمات کو سراہاگیا ہے ۔مجھے خوشی ہے کہ بہار کے وہ لوگ جنہوں نے اردو زبان و ادب کو فروغ دیاان کے کام کو فاروق ارگلی نے اپنی اس کتاب میں نمایاں کیا ہے۔فاروق ارگلی کی یہ کتاب ادب سے متعلق ریسرچ کرنے والے طلبہ واسکالرس کی بھرپورمددکرے گی ۔جواہرعظیم آباد کے مصنف فاروق ارگلی نے کہا کہ میں غالب انسٹی ٹیوٹ کا شکریہ ادا کرتاہوں کہ اس ادارے نے میری کتاب پر اتنے اہم مذاکرے کا انعقاد کیا۔میں نے اب تک مختلف موضوعات پرتقریباً دیڑھ سو سے زائد کتابیں تحریر کی ہیں ۔جواہرعظیم آباد تنقیدپرمبنی کتاب نہیں ہے ۔اس میں میں نے جن شخصیات پر قلم فرسائی کی ہے ان کی خدمات کو سراہاہے اوران کے علمی کاموں کو ایک جگہ اکٹھاکرنے کی کوشش کی ہے ۔مجھے لگتا ہے کہ اس سے آنے والی نسلوں کو فائدہ ہوگا۔
شعبہ اردو،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے استاذپروفیسرمولا بخش نے کہا کہ آزادی کے بعد جن مصنفین نے اپنی تحریروں سے ادب میں اپنا ایک اہم مقام پیدا کیا ہے ان میں فاروق ارگلی ہمیشہ نمایاں نظر آتے ہیں۔ان کی تحریروں کا میں ہمیشہ قائل رہا ہوں اور آج بھی ان کے افکار و خیالات سے مجھے روشنی مل رہی ہے۔ ماہنامہ آجکل کے ایڈیٹرڈاکٹر ابرار رحمانی نے کہاکہ یہ کتاب موجودہ دور کے تذکروں میں قابل ذکر ہے۔میں چاہتاہوں کہ تعریف کے ساتھ تنقید بھی کی جائے، کتاب میں حفظ مراتب کا خیال نہیں رکھا گیا ہے۔اگر شخصیات کو کتاب میں جگہ دیتے وقت ان کی عمریا جدید تحقیق کے طریقہ کار کو اختیارکیا جاتاتو اچھا ہوتا۔اب تو حروف تہجی کے اعتبار سے کتابوں کی ترتیب کا چلن عام ہوچکا ہے ۔اس کتاب کی تصنیف پر میں مصنف فاروق ارگلی کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔حقانی القاسمی صاحب نے کہا کہ مادی عہد میں لفظوں سے تعلق کو استواررکھنے والے اہم مصنفین میں ایک اہم نام فاروق ارگلی کا بھی ہے۔فاروق صاحب نے انتہائی غیر جانب دارانہ انداز میں کتاب لکھی ہے۔کتاب میں بہارکی اہم تاریخی اورموجودہ شخصیات میں متحرک وفعال شخصیات کاانتخاب کیا ہے ۔بہار اردو اکادمی کے سابق سکریٹری مشتاق احمد نوری نے کہا کہ میں اس کتاب پر فاروق ارگلی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔اس عمر میں بھی آپ اہم اور علمی کام انجام دے رہے ہیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ یہ کتاب سبھی کے لئے کارآمد ثابت ہوگی۔نگار عظیم نے بھی اس کتاب کی اشاعت پر فاروق ارگلی کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ارگلی صاحب کی یہ کتاب ان کی تمام کتابوں میں سے ایک منفرد کتاب ہے۔بہار کے اہم ترین مصنفین کو اس کتاب سے بآسانی پہچانااور جاناجاسکتا ہے۔فاروق ارگلی کو میں ان کی کتاب میناکماری سے جانتی ہوں اوراس وقت سے اب تک انہیں مسلسل پڑھ رہی ہوں ۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سیدرضا حیدر نے اپنی استقبالیہ تقریر میں کہاکہ یہ کتاب ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔اس میں بہار کے اہم ترین شخصیتوں کو اکٹھاکرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے ۔پہلی جلد میں رفتگاں پر مضامین موجود ہیں دوسری جلد میں وہ شخصیات ہیں ،جو آج بھی متحرک وفعال ہیں۔اس کتاب میں حضرت شیخ شرف الدین یحیی منیری سے لے کر موجودہ دور کے مصنفین کے علمی کاموں کااحاطہ کیا گیا ہے۔ بہار کے صوفیوں،محققوں، ناقدوں،افسانہ نگاروں ،ناول نگاروں اور ان کے علاوہ بھی مختلف شعبہ ہائے فکر کے لوگوں کو اس کتاب میں جگہ دی گئی ہے۔میں اپنے تمام مہمانوں ،مقررین ،صاحب کتاب اور سامعین کا اس پروگرام میں تہ دل سے استقبال کرتاہوں ۔اس پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے نورین علی حق نے کہاکہ تذکروں کی فہرست میں اس کتاب کا نام زریں حروف سے لکھا جائے گا۔اس موقع پر دہلی کی معززشخصیات نے شرکت کی اور پروگرام کو کامیاب بنایا ۔

تصویر میں مائک پر: پروفیسر مولیٰ بخش،نورین علی حق،ڈاکٹر سید رضاحیدر، پروفیسر اخترالواسع، مشتاق احمد نوری،ابرار رحمانی،فاروق ارگلی، حقانی القاسمی





Releasing Function of Muraqqa-chughtai